Showing posts with label cricket. Show all posts
Showing posts with label cricket. Show all posts

Friday, 25 March 2016

Aamir AKAILA KUCH NAHI KARSAKTA

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں محمد عامر اور محمد آصف کو سزا ہوئی تھی۔ فائل فوٹو اے ایف پی
اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ محمد آصف نے ایک بار پھر قومی ٹیم میں واپسی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ محمد عامر اکیلا کچھ نہیں کر سکتا اور وہ ماضی کی طرح ایک بار پھر عامر کے باؤلنگ پارٹنر بن کر ٹیم کو کامیابیاں دلانا چاہتے ہیں۔
ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو میں محمد آصف نے کہا کہ محمد عامر نے کرکٹ میں واپسی کے بعد ایک بار پھر خود کو ورلڈ کلاس باؤلر ثابت کردیا لیکن وہ اکیلے کچھ نہیں کر سکتے لہٰذا وہ ایک بار پھر محمد عامر کے باؤلنگ پارٹنر بن کر ٹیم کو ماضی کی طرح کامیابیوں سے ہمکنار کرانا چاہتے ہیں۔
2010 کے لارڈز ٹیسٹ میں اسپاٹ فکسنگ کرنے پر محمد عامر، محمد آصف اور اس وقت کے قومی ٹیم کے کپتان سلمان بٹ پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
تاہم تینوں کھلاڑیوں کی پانچ سالہ سزا ختم ہونے کھیل کی عالمی گورننگ باڈی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) گزشتہ سال ستمبر میں انہیں ہرز طرز کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی تھی۔
محمد آصف نے کہا کہ انہں ماضی میں کی گئی اپنی غلطیوں کا احساس ہے، وہ قوم سے ایک بار پھر معذرت چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا ارادہ ہے کہ وہ ایک بار پھر پاکستان ٹیم میں شامل ہوکر کامیابی میں اپنا کردار ادا کریں ۔
یاد رہے کہ حال ہی میں محمد آصف کو قائد اعظم ٹرافی گریڈ ٹو ٹورنامنٹ کے لیے سیالکوٹ ریجن کی کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔
محمد آصف نے کہا وہ مکمل فٹ اور فارم میں ہیں اور اگر انہیں دوبارہ موقع دیا جائے تو پہلے کی طرح شاندار کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔
آصف نے ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایشیا کپ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی اور فائنل کی دوڑ سے باہر ہونے کا انہیں بھی شائقین کی طرح شدید دکھ ہوا تاہم وہ محمد عامر کے ساتھ مل پاکستان ٹیم کو ایک بار پھر کامیابی کی دوڑ میں لانا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایشیا کپ میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے خلاف شکستوں کے بعد پاکستانی ٹیم شکست سے دوچار ہو کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی ہے۔

AFRIDI KO FATAH KAISAATH

موہالی: آسٹریلیا نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے اہم میچ میں پاکستان کو 21 رنز سے شکست دے کر پاکستان کو ایونٹ سے باہر کردیا
موہالی میں کھیلے جا رہے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے گروپ 2 کے اہم میچ میں پاکستان کے کپتان شاہد آفریدی ٹاس کے معاملے میں لگاتار تیسری مرتبہ بدقسمت ثابت ہوئے اور آسٹریلین کپتان اسٹیون اسمتھ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
آسٹریلین ٹیم کو عثمان خواجہ نے روایتی جارحانہ بیٹنگ اور پاکستان کی ناقص فیلڈنگ کے سبب 28 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا تاہم اس سے قبل عثمان مزید خطرناک ثابت ہوتے، وہاب ریاض نے ان کی وکٹیں بکھیر دیں۔
ابھی آسٹریلین ٹیم اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ وہاب ریاض نے اپنے اگلے اوور میں ڈیوڈ وارنر کو بھی باؤلڈ کردیا۔
اسکور 57 تک پہنچا تو عماد وسیم نے ایرون فنچ کو آؤٹ کر کے پاکستان کو تیسری کامیابی دلائی۔
اس کے بعد گلین میکس ویل اور اسٹیون اسمتھ نے 6.2 اوورز میں 62 رنز کی شاندار شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کو بڑے اسکور کیلئے بنیاد فراہم کی۔
میکس ویل 30 رنز بنانے کے بعد ایک اور بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں عماد وسیم کی دوسری وکٹ بن گئے۔
اس موقع پر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کو کم مجموعے تک محدود کر دے گا لیکن اسمتھ اور شین واٹسن نے شاندار شراکت قائم کر کے بڑا مجموعہ اسکور بورڈ پر تشکیل دیا۔
دونوں کھلاڑیوں نے 6.2 اوورز میں 74 رنز کی شراکت قائم کی جس کی بدولت آسٹریلیا نے مقررہ اوورز میں چار وکٹ کے نقصان پر 193 رنز بنائے، واٹسن نے 44 جبکہ اسمتھ نے 61 رنز کی شاندار انگ کھیلی۔
پاکستان کی جانب سے وہاب ریاض اور عماد وسیم نے دو دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ٹورنامنٹ میں بہترین فارم میں نظر آنے والے محمد سمیع سب سے مہنگے باؤلر ثابت ہوئے اور انہوں نے چار اوورز میں 53 رنز دیے۔
پاکستان نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو احمد شہزاد ایک رن بنا کر ہیزل وڈ کو وکٹ دے بیٹھے۔
شرجیل خان نے ایک مرتبہ پھر جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 30 رنز بنائے لیکن جیمز فالکنر نے ان کی اننگ کا خاتمہ کردیا۔
اس کے بعد عمر اکمل اور خالد لطیف نے تیسری وکٹ کیلئے پانچ اوورز میں 45 رنز جوڑے لیکن عمر 32 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
شاہد آفریدی نے روایتی جارحانہ انداز اپنایا لیکن 14 رنز بنانے کے بعد اسٹمپ پو گئے۔
وکٹ پر نئے آںے والے بلے باز شعیب ملک اور خالد لطیف نے رنز بنانے کا سلسلہ تو جاری رکھا لیکن وہ اور خالد لطیف تیزی سے رنز بنانے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے درکار رن ریٹ میں اضافہ ہوتا گیا۔
خالد لطیف 41 گیندوں پر 46 رنز بنا کر پویلین لوٹے جبکہ عماد وسیم پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔
جیمز فالکنر نے اگلے اوور میں سرفراز احمد اور وہاب ریاض کو آؤٹ کر کے میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستانی ٹیم کو مقررہ اوورز میں 172 رنز بنا سکی اور میچ میں 21 رنز کی شکست سے دوچار ہو کر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے باہر ہو گئی۔
میچ کیلئے پاکستانی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی۔
پاکستان: شاہد آفریدی(کپتان)، احمد شہزاد، شرجیل خان، خالد لطیف، سرفراز احمد، شعیب ملک، عمر اکمل، عماد وسیم، وہاب نیوزی لینڈ کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے شیعب ملک کا ایک انداز– فوٹو اے ایف پیریاض، محمد سمیع اور محمد عامر۔

LAGATAAR TEESREY SHIKAST

موہالی: آسٹریلیا نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے اہم میچ میں پاکستان کو 21 رنز سے شکست دے کر پاکستان کو ایونٹ سے باہر کردیا
موہالی میں کھیلے جا رہے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے گروپ 2 کے اہم میچ میں پاکستان کے کپتان شاہد آفریدی ٹاس کے معاملے میں لگاتار تیسری مرتبہ بدقسمت ثابت ہوئے اور آسٹریلین کپتان اسٹیون اسمتھ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
آسٹریلین ٹیم کو عثمان خواجہ نے روایتی جارحانہ بیٹنگ اور پاکستان کی ناقص فیلڈنگ کے سبب 28 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا تاہم اس سے قبل عثمان مزید خطرناک ثابت ہوتے، وہاب ریاض نے ان کی وکٹیں بکھیر دیں۔
ابھی آسٹریلین ٹیم اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ وہاب ریاض نے اپنے اگلے اوور میں ڈیوڈ وارنر کو بھی باؤلڈ کردیا۔
اسکور 57 تک پہنچا تو عماد وسیم نے ایرون فنچ کو آؤٹ کر کے پاکستان کو تیسری کامیابی دلائی۔
اس کے بعد گلین میکس ویل اور اسٹیون اسمتھ نے 6.2 اوورز میں 62 رنز کی شاندار شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کو بڑے اسکور کیلئے بنیاد فراہم کی۔
میکس ویل 30 رنز بنانے کے بعد ایک اور بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں عماد وسیم کی دوسری وکٹ بن گئے۔
اس موقع پر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کو کم مجموعے تک محدود کر دے گا لیکن اسمتھ اور شین واٹسن نے شاندار شراکت قائم کر کے بڑا مجموعہ اسکور بورڈ پر تشکیل دیا۔
دونوں کھلاڑیوں نے 6.2 اوورز میں 74 رنز کی شراکت قائم کی جس کی بدولت آسٹریلیا نے مقررہ اوورز میں چار وکٹ کے نقصان پر 193 رنز بنائے، واٹسن نے 44 جبکہ اسمتھ نے 61 رنز کی شاندار انگ کھیلی۔
پاکستان کی جانب سے وہاب ریاض اور عماد وسیم نے دو دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ٹورنامنٹ میں بہترین فارم میں نظر آنے والے محمد سمیع سب سے مہنگے باؤلر ثابت ہوئے اور انہوں نے چار اوورز میں 53 رنز دیے۔
پاکستان نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو احمد شہزاد ایک رن بنا کر ہیزل وڈ کو وکٹ دے بیٹھے۔
شرجیل خان نے ایک مرتبہ پھر جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 30 رنز بنائے لیکن جیمز فالکنر نے ان کی اننگ کا خاتمہ کردیا۔
اس کے بعد عمر اکمل اور خالد لطیف نے تیسری وکٹ کیلئے پانچ اوورز میں 45 رنز جوڑے لیکن عمر 32 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
شاہد آفریدی نے روایتی جارحانہ انداز اپنایا لیکن 14 رنز بنانے کے بعد اسٹمپ پو گئے۔
وکٹ پر نئے آںے والے بلے باز شعیب ملک اور خالد لطیف نے رنز بنانے کا سلسلہ تو جاری رکھا لیکن وہ اور خالد لطیف تیزی سے رنز بنانے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے درکار رن ریٹ میں اضافہ ہوتا گیا۔
خالد لطیف 41 گیندوں پر 46 رنز بنا کر پویلین لوٹے جبکہ عماد وسیم پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔
جیمز فالکنر نے اگلے اوور میں سرفراز احمد اور وہاب ریاض کو آؤٹ کر کے میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستانی ٹیم کو مقررہ اوورز میں 172 رنز بنا سکی اور میچ میں 21 رنز کی شکست سے دوچار ہو کر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے باہر ہو گئی۔
میچ کیلئے پاکستانی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی۔
پاکستان: شاہد آفریدی(کپتان)، احمد شہزاد، شرجیل خان، خالد لطیف، سرفراز احمد، شعیب ملک، عمر اکمل، عماد وسیم، وہاب احمد شہزاد اونچا شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے۔ فوٹو اے ایف پیریاض، محمد سمیع اور محمد عامر۔

Saturday, 19 March 2016

cricket

نگلینڈ کی جنوبی افریقہ کے خلاف تاریخی فتح

اپ ڈیٹ 23 گھنٹے پہلے
ممبئی: انگلینڈ نے جو روٹ کی شاندار بلے بازی کی بدولت جنوبی افریقہ کے خلاف 230 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف حاصل کر کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی تاریخی فتح اپنے نام کرلی۔
ممبئی کے وانکھیڈے اسٹیڈیم میں انگلینڈ کے کپتان آئن مورگن نے ٹاس جیت کر جنوبی افریقہ کی ٹیم کوپہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو پروٹیز بلے بازوں نے جارحانہ بلے بازی کامظاہرہ کیا۔
ہاشم آملہ اور کوئنٹن ڈی کوک نے جنوبی افریقہ کی جانب سے صرف 7 اوورز میں 96 رنز کا جارحانہ آغاز فراہم کیا۔
ڈی کوک 24 گیندوں پر 7 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے 52 رنز بنا کر معین علی کی گیند پر آؤٹ ہوئے تاہم دوسرے اینڈ سے ہاشم آملہ نے ذمہ داریاں سنبھال لیں اور اسی جارحانہ انداز میں اسکور کو آگے بڑھایا۔
اے بی ڈی ولیئرز آؤٹ ہونے والے دوسرے بلے باز تھے جو 16 رنز بنا سکے انھیں عادل راشد نے آؤٹ کیا۔
ہاشم آملہ 7چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے 58 رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہونے والے جنوبی افریقہ کے تیسرے بلے باز تھے اس وقت پروٹیز کااسکور 133 رنز تھا۔
فیف ڈوپلیسی 17 رنز بنا کر 169 کے اسکور پر ڈیوڈ ویلی کاشکار بنے۔
جے پی ڈومینی نے 3 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے 54 اور ڈیوڈ ملر2 چوکوں اور 2چھکوں کی مدد سے 28 رنز بنا کرناٹ آؤٹ رہے۔
جنوبی افریقہ نے مقررہ اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 229 رنز بنا لیے۔
انگلینڈ کی جانب سے معین علی نے 2، عادل راشد اور ڈیوڈ ویلی نے ایک،ایک وکٹ حاصل کی۔
بڑے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کے اوپنر جیسن روئے اور ایلکس ہیلز نےبھی جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور پہلی وکٹ کی شراکت میں 48 رنزبنائے۔
ایلکس ہیلز 17رنز بناکر کائل ایبٹ کی گیند پر آؤٹ ہونے والے انگلینڈ کے پہلے بلے باز تھے جبکہ دوسری وکٹ 71 رنزپر گری جب جیسن روئے 16 گیندوں پر برق رفتار 43 رنز کی اننگز کھیل کرپویلین لوٹے۔
بین اسٹوکس اسکور میں 15 رنز کا اضافہ کرنےمیں کامیاب ہوئے اور کپتان آئن مورگن 12 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو انگلینڈ کااسکور 111 رنز تھا تاہم جو روٹ نے انگلینڈ کی ناؤ کو پار کرنے کی ذمہ داری سنبھالی لیکن جوز بٹلر 21 رنز بناکر ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔
جوروٹ نے 44 گیندوں پر 6 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے 83 رنزکی شاندار اننگز کھیل کر انگلینڈ کوجیت کے قریب لاکر آؤٹ ہوئے اس وقت انگلینڈ کو جیت کے لیے 11 گیندوں پر صرف 11 رنز درکار تھے۔
معین علی نے اگلی ہی گیند پر چوکا لگا کر انگلینڈ کی شاندارفتح کویقینی بنا دی تاہم اس اہم لمحے پر جب اسکور برابر ہواتھا تو کرس جارڈن 5 اور ڈیوڈ ویلی صفر پر آؤٹ ہوگئے۔
معین علی نے آخری اوور کی چوتھی گیند پر فاتحانہ شاٹ کھیل کر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں سب سے بڑا ہدف حاصل کرنے کاریکارڈ انگلینڈ کے نام کردیا یہ مجموعی طور پر دوسرا بڑا ہدف ہے جس کو حاصل کیا گیا۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے کائل ایبٹ نے 3 اور رابادا نے 2 وکٹیں حاصل کیں، عمران طاہر نے اپنے 4 اوورز میں 28 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔
جو روٹ نے 83 رنز کی شاندار اننگز کھیلی—فوٹو: اے ایف پی
بلآخر جو سوچا جارہا تھا وہی ہوا۔ یعنی جو بات تاریخی غداری کیس سے چلی تھی، چاہے اُس سے سول ملٹری تعلقات میں عدم توازن پیدا ہوا یا اُس نے ملک میں جمہوریت کی بنیادوں کو ہلا دیا، وہ بلآخر ختم ہوگئی۔
ہمارے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ روز میڈیا کو بتایا کہ اُن کی حکومت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو (چند ہفتوں بعد دوبارہ پاکستان واپس آنے کی یقین دہانی کے بعد) بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ بات کرتے وقت خود ان کے چہرے کے تاثرات سے بھی یہ ظاہر نہیں ہوا کہ ایسا ممکن ہوگا بھی یا نہیں۔
اس کے بجائے وہ اس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ اس معاملے میں ان کی حکومت کے ہاتھ کیوں بندھے ہوئے ہیں۔
اس میں کوئی ابہام نہیں کہ سپریم کورٹ خود ہی یہ واضح کرچکی ہے کہ اگر وفاقی حکومت اور خصوصی عدالت، پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے سے روکنا چاہے تو انہیں اس کا اختیار ہے۔
حکومت نے اس معاملے کو لے کر پہلے گیند سپریم کورٹ کے کورٹ میں ڈالی اور جب سپریم کورٹ نے دوبارہ گیند حکومت کے کورٹ میں ڈالی تو پاکستان مسلم لیگ (ن) نے، معاملے میں مزید الجھنے کے بجائے ہتھیار ڈالنے میں ہی عافیت جانی۔
یہ ممکن ہے کہ پرویز مشرف پاکستان واپس آجائیں، لیکن اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو بھی حکومت پہلے ہی سابق آمر کے سامنے ہتھیار ڈال کر پراسیکیوشن ختم کرنے کا اشارہ دے چکی ہے۔
اب جب پرویز مشرف کی قسمت کا فیصلہ ہوچکا ہے، تو یہاں 2 ایسے سوال اٹھتے ہیں جن کا جواب دیا جانا باقی ہے۔ پہلا سوال یہ کہ وزیر اعظم نواز شریف نے کیا سوچ کر پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کا فیصلہ کیا؟
ابتداء سے ہی حکومت کی اس حوالے سے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آئی۔ پرویز مشرف کے خلاف 1999 میں بغاوت کے بجائے نومبر 2007 کی ایمرجنسی کا مقدمہ چلا کر نواز شریف یہ دکھانا چاہتے تھے کہ وہ سابق آمر سے کوئی ذاتی انتقام نہیں لے رہے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ حکومت کو قانونی رائے دی گئی ہو کہ چونکہ اس اصل فوجی بغاوت کو بعد میں پارلیمنٹ نے بھی مقدس مان لیا تھا، اس لیے اس پر کوئی قانونی کارروائی کرنا زیادہ مشکل ہے۔
اب تک حکومت کے اس فیصلے کے حوالے سے سیاسی تضاد ختم نہیں ہوسکا، اگر پہلی بغاوت پراسیکیوشن کے قابل نہیں تھی تو کچھ عرصے کے لیے ایمرجنسی کا نفاذ کیا معنی رکھتا ہے، خاص طور پر اُس وقت جب اس کے نتیجے میں پرویز مشرف کو حکومت سے باہر ہونا پڑا اور افتخار چوہدری دوبارہ اپنے عہدے پر بحال ہوگئے۔
پاکستان کی فوج کے ماضی کو کئی حوالوں سے انصاف کی ضرورت ہے، لیکن یہ انصاف شفافیت اور بہتر مستقبل کے لیے ہونا چاہیے۔
دوسرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ اب سول ملٹری میں عدم توازن کا کیا ہوگا؟ بظاہر یہی لگتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ ملک میں جمہورت کے استحکام کے لیے فوج سے تعلق میں توازن رکھنا ضروری ہے۔
یہ اداریہ 18 مارچ 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوانگلینڈ کے جو روٹ کو شاندار بلے بازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

CRICKET

شاہد آفریدی 8 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے—فوٹو: اے ایف پی
کولکتہ: محمد عامر نے ہندوستان کے بلے باز روہت شرما کو آؤٹ کرکے پاکستان کو 118 رنز کے دفاع میں پہلی کامیابی دلادی۔
ہندوستان نے 3 اوورز کے اختتام پر ایک وکٹ کے نقصان پر 16 رنز بنا لئے۔
روہت شرما 10 رنز بنا کر محمد عامر کا شکار بنے۔
پاکستان نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016 کے میچ میں ہندوستان کے خلاف پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 118 رنز بنا لئے۔
کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں کھیلے جارہے میچ میں روایتی حریف ہندوستان کے کپتان مہندرا سنگھ دھونی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔
شرجیل خان اور اور احمد شہزاد نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 38 رنز بنائے اور شرجیل خان 17 رنز بنا کر ہارڈیک پانڈے کے بہترین کیچ کا شکار ہوئے۔
احمد شہزاد نے ٹی ٹوئنٹی میں ایک ہزار رنز مکمل کرلیے وہ ایک ہزار رنز مکمل کرنے والے دوسرے نوجوان کھلاڑی ہیں۔
کپتان شاہد آفریدی گزشتہ میچ کی طرح اس میچ میں بھی دوسرے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے اور احمد شہزاد کے ساتھ 8 رنز کی شراکت بنائی تاہم احمد شہزاد 28 گیندوں پر 3 چوکوں کی مدد سے 25 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
شاہد آفریدی اور عمر اکمل کے درمیان 14 رنز کی رفاقت ہوئی لیکن شاہد آفریدی خاطر خوا کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے اور 14 گیندوں پر ایک چوکے کی مدد سے 8 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جس کے بعد شعیب ملک بیٹنگ کے لیے آئے۔
شعیب ملک نے 16 ویں اوور کی دوسری گیند پر پاکستان کو ہندوستان کے خلاف 100 رنز کا سنگ میل عبور کرنے کے لیے چوکا لگایا اگلی گیند پر عمر اکمل آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔
عمرا کمل اور شعیب ملک کے درمیان 41 رنز کی قیمتی شراکت قائم ہوئی، عمر اکمل ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے 22 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
شعیب ملک 26 رنز بنا کر ایشون کی گیند پر نہرا کا کیچ بنے، انھوں نے سرفراز کےساتھ شراکت میں 4 رنز بنا ئے۔
سرفراز احمد 8 اور محمد حفیظ 5 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
پاکستان نے مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 118 رنز بنائے۔
ہندوستان کی جانب سے تمام باؤلرز نے پاکستانی باؤلرز کو کھل کر کھلنے نہیں دیا، اشیش نہرا، جسپریت بھمرہ،رویندرا جدیجا، سریش رائنا اور پانڈیا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
قبل ازیں ٹاس کے بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑی میدان میں آئے اور قومی ترانہ گایا گیا۔ شفقت امانت علی نے پاکستان کا قومی ترانہ پیش کیا، امیتابھ بھچن نے ہندوستان کا قومی ترانہ پیش کیا۔
روایتی حریف پاکستان اور ہندوستان کے درمیان میچ بارش کے باعث تاخیر کا شکار ہوا اور 18 اوورز تک محدود کر دیا گیا۔
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بڑے میچ کا پاور پلے 5 اوور پر مشتمل ہو گا اور صرف 3 باؤلرز 4 سے زیادہ اوور نہیں کرپائے گا۔
پاکستان نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اپنے پہلے میچ میں بنگلہ دیش کو 55 رنز سے شکست دے کر فاتحانہ آغاز کیا جبکہ ہندوستان کو ایونٹ کے افتتاحی میچ میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 47 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔
پاکستان
شاہد آفریدی (کپتان)، احمد شہزاد، شرجیل خان، محمد حفیظ، عمر اکمل، شعیب ملک، سرفرازاحمد، محمد سمیع، وہاب ریاض، محمد عامر، محمد سمیع
ہندوستان
مہندراسنگھ دھونی (کپتان)، شیکھر دھون، روہت شرما، ویرات کوہلی، سریش رائنا، یوراج سنگھ، ہرڈیک پانڈیا، رویندرا جدیجا، روی چندرن ایشون، جسپریت بھمرا، اشیش نہرا

ایڈن گارڈنز میں عمران سمیت عظیم کھلاڑیوں کیلیے تقریب

کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور عظیم آل راؤنڈر عمران سمیت ماضی کے عظیم کھلاڑیوں کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گئی

سابق کھلاڑیوں کا مماتا بینر جی اور امیتابھ بھچچ کے ساتھ گروپ فوٹو: اےایف پی
جس میں قومی ٹیم کے سابق کپتان عمران خان، وسیم اکرم اور وقار یونس نے شرکت کی جبکہ ہندوستان کے عظیم سابق بلے باز سنیل گواسکر، سچن ٹنڈولکر کو مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ مماتا بینر جی نے روایتی چادر اور گلدستے پیش گئے۔

چٹرجی، عمران خان کو گلدستہ پیش کررہی ہیں—فوٹو: اے ایف پی
عمران خان نے پاکستان ٹیم کی جانب سے کولکتہ میں موجود تماشائیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میچ کا نتیجہ وہی ہوگا جس میں نے اپنے آخری میچ تھا۔

وسیم اکرم کو بینر چیٹرجی ،عمران خان کی موجودگی میں گلد ستہ پیش کر رہی ہیں—فوٹو: اے ایف پی
وزیر اعلی مماتا بینر جی نے عظیم سابق کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کیا جہاں بالی ووڈ کے مشہور اداکار امیتابھ بھچن بھی شریک تھے۔